بچوں کے دودھ کے دانت ٹوٹنے پر سنبھال کر رکھیں اور حیران کن فائدہ اٹھائیں!

جب بچے بڑے ہورہے ہوتے ہیں تو ان کے دودھ کے دانت ٹوٹنے لگتے ہیں اور ہم بچوں کو بتاتے ہیں تکیے ئکے نیچے دانت رکھنے سے پری انہیں لے جاتی ہے اور ساتھ وہاں پیسے رکھ جاتی ہے.ہم وہ دانت اٹھا کر ضائع کردیتے ہیں لیکن سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہیں پھینکیں مت بلکہ انہیں سنبھال کررکھیں کہ زندگی میں کسی بھی

وقت بچوں کو ان کی ضرورت پیش آسکتی ہے. 2003ءمیں کی گئی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ دودھ کے دانت سٹم خلیوں(stemcells)ے بھرپور ہوتے ہیں . سٹم سیلز ایسے خلیے ہوتے ہیں جن سے ہم ضرورت کے وقت جسم کے کئی طرح کے خلیے پیدا کرسکتے ہیں.یہ وہ خلیے بھی ہوتے ہیں جن سے جسم کے اعضاءکو پیدا کیاجاسکتا ہے یا ان کی نشوونما کی جاسکتی ہے.اگر بچوں کو آنے والی زندگی میں خلیوں کی ضرورت درپیش ہوتو دانت کے ذریعے انہیں پیدا کیا جاسکتا ہے. انسانی جسم میں سٹم سیلز دو طریقوں سے بنتے ہیں

ایک جب بچہ بن رہا ہوتا ہے اسے ایمبریونک سٹم سیلز کہاجاتا ہے اور اسی طرح بلوغت میں پہنچنے یہ بنتے ہیں.ان کی وجہ سے جسم کے پٹھے، ہڈیاں اور دیگر اعضاءمضبوط ہوتے ہیں. ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ بچوں کے دانت سنبھال کررکھنے اور ان سے مستقبل میں ایسے کام لئے جاسکتے ہیں جس کی وجہ سے بیماریوں کے خلاف لڑنے میں مدد ملے گی

بچوں کے دودھ کے دانت ٹوٹنے پر سنبھال کر رکھیں اور حیران کن فائدہ اٹھائیں! .