ایرانی لڑکیوں کی زندگی کا سب سے بڑا دکھ

یران کے دیہی علاقوں میں اکثر لڑکیوں کی بچپن ہی میں شادی کر دی جاتی ہے، جس کے بعد انہیں جبر و استحصال کا سامنا رہتا ہے. یہ عمل خاندانی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ بھی بنتا ہے لیکن اسے ملکی قوانین کے تحت تحفظ بھی حاصل ہوتا ہے. اس موضوع پر ڈوئچے ویلے کی شیریں شکیب اپنی ایک مفصل رپورٹ میں لکھتی ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران میں خاص کر دیہی علاقوں میں بچپن کی یہی شادیاں سماجی سطح پر بہت سے خاندانوں میں ٹوٹ پھوٹ کی وجہ بن رہی ہیں. اس کے علاوہ جن بچیوں کی شادیاں بچپن ہی میں

دی جاتی ہیں، وہ نہ صرف کم عمری میں جبر و استحصال سے عبارت زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتی ہیں بلکہ ایرانی بچوں کی ایک پوری نسل اپنے بہتر مستقبل کے حوالے سے کسی بھی طرح کے بہتر امکانات سے بھی محروم ہوتی جا رہی ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں